انکم ٹیکس کیلکولیٹر

مصنف: Henrick Yau

کیلکولیٹرز

سالانہ قابل ٹیکس آمدنی پر ٹیکس سلیب کے مطابق ٹیکس نکالتا ہے۔ پاکستان میں سلیب ایک نہیں دو ہیں: ایک تنخواہ دار کے لیے اور ایک ہر دوسرے فرد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے۔ اسی لیے ٹیکس دہندہ کی قسم یہاں ایک ان پٹ ہے، فرض شدہ بات نہیں۔

ٹیکس سال 2026-27 کی شرحیں۔ غیر تنخواہ دار فرد اور AOP پر، جہاں قابلِ ٹیکس آمدنی ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہو، دفعہ 4AB کے تحت ڈویژن I کے ٹیکس پر سرچارج بھی لگتا ہے؛ تنخواہ دار فرد پر نہیں۔ اپنے اعداد ایف بی آر سے جانچیں۔

آمدنی اور ٹیکس دہندہ کی قسم

روپے
روپے
شرحیں (آپ خود بدل سکتے ہیں)
روپے

پاکستان میں انکم ٹیکس کیسے بنتا ہے؟

انکم ٹیکس سالانہ قابل ٹیکس آمدنی پر لگتا ہے، اور پاکستان میں اس کے لیے ایک نہیں دو ٹیکس سلیب چلتے ہیں۔ ایک سلیب اس شخص کے لیے ہے جس کی تنخواہ اس کی کل قابل ٹیکس آمدنی کے پچھتر فیصد سے زیادہ ہو؛ دوسرا ہر باقی فرد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے، یعنی کاروبار، پیشہ ور اور شراکت دار۔

دونوں کی چھوٹ کی حد ایک ہی ہے — چھ لاکھ روپے سالانہ — مگر اس کے اوپر کی شرحیں بہت مختلف ہیں۔ کاروباری آمدنی پر پہلا ہی سلیب 15% سے شروع ہوتا ہے، جبکہ تنخواہ پر 1% سے۔ اسی لیے یہ کیلکولیٹر آپ سے پہلے یہ پوچھتا ہے کہ آپ کس درجے میں آتے ہیں۔

حساب کس ترتیب سے ہوتا ہے

  1. سال بھر کی کل آمدنی نکالیں اور اس میں سے قانونی کٹوتیاں، جیسے دفعہ 60 کے تحت ادا شدہ زکوٰۃ، منہا کریں۔ جو بچے وہ قابل ٹیکس آمدنی ہے۔
  2. اپنا درجہ طے کریں: تنخواہ دار فرد، غیر تنخواہ دار فرد، عام AOP، یا وہ پیشہ ورانہ فرم جسے قانوناً کمپنی بننے کی اجازت نہیں۔
  3. اس درجے کا سلیب ٹیبل لیں۔ ہر سلیب ایک مقررہ رقم اور اس سے اوپر کی آمدنی پر ایک شرح سے بنتا ہے۔
  4. غیر تنخواہ دار سلیب کی شرحیں 15%، 20%، 30%، 40% اور سب سے اوپر 45% ہیں۔ پیشہ ورانہ فرم کے لیے سب سے اوپر والی شرح 40% ہے۔
  5. اگر آپ تنخواہ دار نہیں اور قابل ٹیکس آمدنی ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے تو دفعہ 4AB کے تحت بننے والے ٹیکس پر 10% سرچارج بھی جوڑ دیں۔

جو بات سب سے زیادہ الجھن پیدا کرتی ہے

سب سے بڑی الجھن فائلر اور نان فائلر کی ہے۔ لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ نان فائلر ہونے سے انکم ٹیکس کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ سلیب کی شرحیں ہر ایک پر ایک جیسی لگتی ہیں۔ فرق ود ہولڈنگ ٹیکس میں پڑتا ہے: جائیداد، گاڑی، بینک ٹرانزیکشن اور بہت سے دوسرے سودوں پر ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے باہر رہنے والے سے کہیں زیادہ کٹتا ہے، اور وہ زائد رقم صرف گوشوارہ جمع کرانے پر ہی ایڈجسٹ ہوتی ہے۔

دوسری الجھن سرچارج کی ہے۔ وہ ایک کروڑ کی حد "سے زیادہ" پر لگتا ہے، ٹھیک ایک کروڑ پر نہیں، اور تنخواہ دار فرد پر بالکل نہیں لگتا۔

آپ کا اپنا عدد مختلف کیوں ہو سکتا ہے

یہ کیلکولیٹر صرف عام سلیب ریٹ لگاتا ہے۔ آپ کا حقیقی گوشوارہ ان وجوہات سے مختلف نکل سکتا ہے: حتمی ٹیکس والی آمدنی، جیسے بینک کا منافع، ڈیویڈنڈ اور جائیداد کی فروخت، جن پر الگ مقررہ شرحیں لگتی ہیں اور جو سلیب میں شامل نہیں ہوتیں؛ ٹیکس کریڈٹ، جیسے چیریٹی اور بعض سرمایہ کاری پر؛ کاروبار پر لاگو کم از کم ٹیکس، جو منافع نہ ہونے پر بھی ٹرن اوور پر بنتا ہے؛ اور سال بھر میں پہلے سے کٹا ہوا ود ہولڈنگ ٹیکس، جو آخر میں منہا ہو کر واجب الادا رقم گھٹا دیتا ہے۔

اپنی مکمل صورتِ حال ایف بی آر کے آئرس پورٹل پر دیکھیں، جہاں سال بھر میں آپ کے نام پر کٹا ہوا سارا ٹیکس پہلے سے درج ہوتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

میں تنخواہ بھی لیتا ہوں اور ساتھ کاروبار بھی کرتا ہوں — کون سا سلیب لگے گا؟ تنخواہ دار سلیب صرف اس وقت لگتا ہے جب تنخواہ آپ کی کل قابل ٹیکس آمدنی کے پچھتر فیصد سے زیادہ ہو۔ اس سے کم ہو تو غیر تنخواہ دار سلیب لگے گا، جو کہیں زیادہ بھاری ہے۔

فائلر بننے کا اصل فائدہ کیا ہے؟ گوشوارہ جمع کرانے سے آپ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جائیداد، گاڑی اور بینک کے سودوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح بہت کم ہو جاتی ہے، اور پہلے سے کٹا ہوا زائد ٹیکس واپس یا ایڈجسٹ ہو جاتا ہے۔

AOP اور پیشہ ورانہ فرم میں فرق کیا ہے؟ عام AOP پر سب سے اوپر والی شرح 45% ہے۔ وہ فرم جسے اس کے پیشے کا قانون یا ادارہ کمپنی بننے سے روکتا ہے — جیسے بعض قانونی اور آڈٹ فرمیں — ان کے لیے وہی شرح 40% ہے۔

کیا گوشوارہ جمع نہ کرانے پر ٹیکس بچ جاتا ہے؟ نہیں، الٹا زیادہ لگتا ہے۔ نان فائلر سے ہر سودے پر بڑھی ہوئی شرح پر ٹیکس پہلے ہی کٹ چکا ہوتا ہے، اور واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا واحد راستہ گوشوارہ ہے۔