پراپرٹی ٹیکس کیلکولیٹر
مصنف: Henrick Yauکیلکولیٹرز
جائیداد کی خرید و فروخت پر وفاقی ایڈوانس ٹیکس نکالتا ہے: فروخت کنندہ پر سیکشن 236C اور خریدار پر 236K۔ ٹیکس سال 2026-27 سے دونوں مقررہ شرحیں ہیں — پہلے والی مالیت کے حساب سے بدلتی شرحیں ختم ہو گئیں۔ شرح ایف بی آر ویلیو یا قیمتِ فروخت پر لگتی ہے، اس لیے دونوں میں سے جو زیادہ ہو وہی درج کریں۔
جو شخص ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نہیں، اس پر دسویں شیڈول کے تحت بہت زیادہ شرح لگتی ہے، اور 236K میں وہ شرح جائیداد کی مالیت کے ساتھ بڑھتی ہے۔ اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور ٹاؤن ٹیکس صوبائی ہیں اور ہر صوبے میں الگ — وہ یہاں فرض نہیں کیے گئے، آپ اپنی شرح درج کرتے ہیں۔ کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ڈی سی ریٹ کی وضاحت نیچے مضمون میں ہے۔
سودے کی تفصیل
صوبائی محصولات — اپنے صوبے کی شرح درج کریں
شرحیں (آپ خود بدل سکتے ہیں)
جائیداد خریدنے اور بیچنے پر کتنا ٹیکس لگتا ہے؟
جائیداد کے ہر سودے پر دو الگ الگ محصول لگتے ہیں: وفاقی ایڈوانس ٹیکس، جو ایف بی آر وصول کرتا ہے، اور صوبائی محصولات، یعنی اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور ٹاؤن یا کینٹونمنٹ ٹیکس۔ دونوں الگ حکومتوں کے ہیں اور الگ اصولوں پر چلتے ہیں۔
وفاقی طرف ٹیکس سال 2026-27 سے بہت سادہ ہو گئی ہے۔ فروخت کنندہ سے سیکشن 236C کے تحت 2.75% اور خریدار سے 236K کے تحت 1.25% کٹتا ہے۔ یہ مقررہ شرحیں ہیں — پہلے جو مالیت کے حساب سے بدلتی ہوئی شرحیں تھیں، وہ ختم ہو چکی ہیں۔
حساب کس ترتیب سے ہوتا ہے
- جائیداد کی وہ مالیت طے کریں جس پر ٹیکس لگے گا۔ 236C قیمتِ فروخت پر لگتا ہے اور 236K مناسب مارکیٹ ویلیو پر، جس کے لیے ایف بی آر ویلیو ٹیبل دیکھا جاتا ہے۔
- دیکھیں کہ آپ خریدار ہیں یا فروخت کنندہ۔ دونوں پر الگ دفعہ اور الگ شرح لگتی ہے۔
- دیکھیں کہ آپ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں ہیں یا نہیں۔ لسٹ میں ہونے پر مقررہ شرح لگتی ہے۔
- لسٹ میں نہ ہونے پر دسویں شیڈول کی شرحیں لگتی ہیں: فروخت پر 11.5%، اور خرید پر جائیداد کی مالیت کے حساب سے 10.5%، 14.5% یا 18.5%۔
- آخر میں اپنے صوبے کی اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس جوڑ لیں۔
جو بات سب سے زیادہ الجھن پیدا کرتی ہے
سب سے پرانی الجھن ڈی سی ریٹ اور ایف بی آر ویلیو کے فرق کی ہے۔ ڈی سی ریٹ صوبائی محکمہ مال کی مقرر کردہ قیمت ہے اور اسٹامپ ڈیوٹی اسی پر بنتی ہے۔ ایف بی آر ویلیو وفاقی ٹیبل ہے اور 236C اور 236K اسی پر لگتے ہیں۔ دونوں اکثر ایک دوسرے سے اور دونوں مارکیٹ کی اصل قیمت سے مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے ایک ہی سودے پر دو مختلف "قیمتیں" چلتی نظر آتی ہیں۔
دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ دفعہ 7E ختم ہو چکی ہے۔ یہ وہ شق تھی جس کے تحت خالی جائیداد پر فرضی آمدنی مان کر ٹیکس لگتا تھا اور جس کے سرٹیفکیٹ کے بغیر رجسٹری رک جاتی تھی۔ فنانس ایکٹ 2026 نے اسے منسوخ کر دیا۔ اسی طرح "لیٹ فائلر" کا الگ درجہ بھی ختم ہو گیا ہے — اب صرف دو حالتیں ہیں: آپ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں ہیں، یا نہیں۔
کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا نام اب بھی سنائی دیتا ہے، مگر پاکستان میں واقع رہائشی و تجارتی جائیداد پر وہ اس شکل میں نہیں رہا جس شکل میں لوگ اسے یاد رکھتے ہیں؛ آج کے سودے کا وفاقی بوجھ 236C اور 236K ہیں۔
آپ کا اپنا عدد مختلف کیوں ہو سکتا ہے
آپ کی اصل لاگت ان وجوہات سے مختلف نکل سکتی ہے: اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور مقامی محصولات صوبہ بہ صوبہ اور شہر بہ شہر بدلتے ہیں، اور شہری و دیہی علاقوں کے لیے الگ ہوتے ہیں — اسی لیے یہاں وہ آپ خود درج کرتے ہیں؛ ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ٹرانسفر فیس اور ممبرشپ فیس اس سے الگ ہے؛ اور اگر مالیت مارکیٹ سے کم ظاہر کی جائے تو ایف بی آر ویلیو ہی بنیاد بنے گی، آپ کا لکھا ہوا سودا نہیں۔
یاد رکھیں کہ 236C اور 236K ایڈوانس ٹیکس ہیں: یہ آپ کے سال کے ٹیکس میں ایڈجسٹ ہوتے ہیں، الگ سے حتمی بوجھ نہیں۔ اپنی شرحیں ایف بی آر اور اپنے صوبے کے بورڈ آف ریونیو سے جانچیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
فائلر اور نان فائلر کے فرق سے واقعی کتنا بچتا ہے؟ بہت زیادہ۔ خریدار کے لیے مقررہ شرح 1.25% ہے، جبکہ لسٹ سے باہر رہنے پر یہی شرح 10.5% سے شروع ہو کر بڑی جائیدادوں پر 18.5% تک جاتی ہے۔
کیا 236C اور 236K واپس مل سکتے ہیں؟ یہ ایڈوانس ٹیکس ہیں اور گوشوارے میں آپ کے سال کے ٹیکس میں ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا کل ٹیکس اس سے کم بنے تو زائد رقم کے ریفنڈ کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے — مگر صرف گوشوارہ جمع کرانے پر۔
اسٹامپ ڈیوٹی کیوں یہاں طے شدہ نہیں؟ کیونکہ وہ وفاقی نہیں۔ ہر صوبے کا اپنا اسٹامپ ایکٹ اور اپنی شرح ہے، اور شہری علاقے میں الگ محصولات بھی لگتے ہیں۔ اپنے ضلع کی شرح دیکھ کر خانے میں لکھ دیں، حساب اسی پر ہو جائے گا۔
کیا 7E کا سرٹیفکیٹ اب بھی درکار ہے؟ دفعہ 7E منسوخ ہو چکی ہے۔ عملی طور پر رجسٹرار کے دفتر میں کیا مانگا جا رہا ہے، یہ اپنے وکیل یا متعلقہ دفتر سے تصدیق کر لیں۔